MOHAMMED MASOOD NOTTINGHAM

Page 10 of 10 Previous  1, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 10

View previous topic View next topic Go down

یہ اداس دن یہ اداس سی شام ہے

Post by Guest on Tue May 26, 2015 12:12 am

یہ اُداس دن یہ اُداس سی شام ہے
کاٹتا نہیں ہے یہ وقت اب تُم آ جاؤ


اِب تو میرے آنُسو بھی آواز دیتے ہیں
کیا اُنہیں تُم سُن رہے ہو نا کہیں پہ


اِدھر اکیلا راہ گُزر پہ کھڑا ہوں میں
سوچتا ہوں کہ شاہد تُم یہاں سے گُزرو


یہ زندگی اور یہ میرے اُدھرے سے خواب
اب تو بتا اِن کو لے کے میں کہاں جاؤں


میری تو زندگی گُزر گئی ہے سراب میں
میں نے کیا پایا کیا کھویا اب تُم ہی بتاؤ


میرے سارے خواب ڈھل گئے آنُسو بن کر
بہت ہو چکا مسعود اب تو تُم آ بھی جاؤ

Guest
Guest


Back to top Go down

YE UDAAS DIN YE UDAAS SHAAM

Post by Guest on Tue May 26, 2015 12:14 am

YE UDAAS DIN YE UDAAS SHAAM
M Masood nottingham UK



Ye Udaas Din Ye Udaas Shaam
Kat Ti Nahin, Ab Tum Aa Jao



Mere Aansu Awaaz Dete Hain
Kya Unhe Tum Sun Rahe Ho ?



Akeli Rahguzar Pe Khadi Hoon
Shayad Tum Yahan Se Guzro



Ye Mere Adhure Se Khwaab
Inko Le Ke Main Kahan Jaaon



Meri Zindagi Guzar Gayi Saraab Me
Maine Kya Paya, Tumhi Batao



Khwaab Dhal Gaye Aansu Ban Kar
Bohot Hua Ab Tum Aa Bhi Jaao

Guest
Guest


Back to top Go down

ستارہ ہماری قسمت کا اِس سے ملا ہی نہیں

Post by Guest on Mon Dec 21, 2015 11:51 pm

ستارہ ہماری قسمت کا اِس سے ملا ہی نہیں
وہ کیسے ہوتا ہمارا جو کبھی ہمارا ہوا ہی نہیں


ہم نے اپنی خوشی دوسروں میں بانٹ دی
کس نے ہمیں کیا دیا یہ کبھی سوچا ہی نہیں


باتوں باتوں میں محبت اِس قدر بڑھتی گئی
تم کو اب بھول جاؤں کیسے اتنا حوصلہ ہی نہیں


ہر کسی نے مطلب تک مُجھ سے پیار کیا مسعود
کوئی ہم سفر بن کر ساتھ میرے چلا ہی نہیں

Guest
Guest


Back to top Go down

جتنا سہتا ہوں زمانے کی جفا ہر لمحہ اور

Post by Guest on Tue Dec 22, 2015 12:04 am

[center]

جتنا سہتا ہوں زمانے کی جفا ہر لمحہ اور
اتنا آتا ہے سمجھ مجھ کو خدا ہر لمحہ اور


ہو رہے ہیں میرے دل کے جتنے ٹکڑے باربار
اس سے ہوتا جا رہا ہوں آشنا ہر لمحہ اور


کر رہا تھا میں توقع اس سے رحمت کی مگر
وہ بڑھاتا ہی گیا میری سزا ہر لمحہ اور


جیسے جیسے دور ہوتا جا رہا ہوں خود سے اب
تیز آتی جا رہی ہے اک صدا ہر لمحہ اور


زندگی تو ابتداءسے موت کے چنگل میں ہے
کستا جاتا ہے شکنجہ وقت کا ہر لمحہ اور


اب تو اپنی خواہشوں کے سلسلے بھی ختم ہیں
راز ہوتا جا رہا ہوں بے صدا ہر لمحہ اور



[/center]

Guest
Guest


Back to top Go down

ذات بن کر میری ذات میں رہا کرو

Post by Guest on Tue Dec 22, 2015 12:12 am

ذات بن کر میری ذات میں رہا کرو
محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یو کے


ذات بن کر میری ذات میں رہا کرو
ایک شخص ہے جو مُجھ میں بسا کرتا تھا


میرے چہرے میں نظر آتا ہے چہرہ اُس کا
اِس کا تبسم میرے ہونٹوں میں کھلا کرتا تھا


میرے لفظوں میں ادا ہوتی ہیں باتیں اِس کی
میرے لہجے سے غرور اِس کا چلکا کرتا تھا


میری نیندوں پر ہے برسوں سے حکمرانی اِس کی
خواب بن کر میری پلکوں پر سجا کرتا تھا


اِس حد تک میری ہستی میں موجود ہے وہ مسعود
میرے ہر نقش میں عکس اِس کا ملا کرتا تھا

Guest
Guest


Back to top Go down

وہ خواب بھکر گئے جو پلکوں پہ سجائے ہم نے

Post by Guest on Tue Dec 22, 2015 12:23 am

وہ خواب بھکر گئے جو پلکوں پہ سجائے ہم نے
بُجھ گئے وہ چراغ جو محبت کے جلائے ہم نے


ہمارے دل میں لگی آگ پھر نہ بُجھ سکی
بجھانے کے لیے کتنے اشک بہائے ہم نے


جی بھر کے ہم تنہائی میں بہاتے ہیں آنسو
محفل میں چھلک پڑے لاکھ چھپائے ہم نے


وہی پُھول آج ہم کو کانٹے بن کر چھبے
جو پلکوں پہ اپنی تھے سجائے ہم نے


ذرا ٹھہر ذرا رُکیے ذرا سُنیے مسعود
ابھی کہاں اپنے دل کے زخم دکھائے ہم نے

Guest
Guest


Back to top Go down

Re: MOHAMMED MASOOD NOTTINGHAM

Post by Guest on Tue Dec 22, 2015 3:13 am

[center][size=24]دہکتے دن میں عجب لطف اُٹھایا کرتا تھا[/size]
[size=24]محمد مسعود نونٹگھم یو کے[/size]






[size=24]دہکتے دن میں عجب لطف اُٹھایا کرتا تھا[/size]
[size=24]میں اپنے ہاتھ کا تتلی پہ سایہ کرتا تھا[/size]






[size=24]اگر میں پوچھتا بادل کدھر کو جاتے ہیں[/size]
[size=24]جواب میں کوئی آنسو بہایا کرتا تھا[/size]






[size=24]یہ چاند ضعف ہے جس کی زباں نہیں کھلتی[/size]
[size=24]کبھی یہ چاند کہانی سنایا کرتا تھا[/size]






[size=24]میں اپنی ٹوٹتی آواز گانٹھنے کے لئے[/size]
[size=24]کہیں سے لفظ کا پیوند لایا کرتا تھا[/size]






[size=24]عجیب حسرتِ پرواز مجھ میں ہوتی تھی[/size]
[size=24]میں کاپیوں میں پرندے بنایا کرتا تھا[/size]






[size=24]تلاشِ رزق میں بھٹکے ہوئے پرندوں کو[/size]
[size=24]میں جیب خرچ سے دانہ کھلایا کرتا تھا[/size]






[size=24]ہمارے گھر کے قریب ایک جھیل ہوتی تھی[/size]
[size=24]اور اس میں شام کو سورج نہایا کرتا تھا[/size]






[size=24]یہ زندگی تو مجھے تیرے پاس لے آئی[/size]
[size=24]یہ راستہ تو کہیں اور جایا کرتا تھا[/size][/center]


Last edited by mohammed masood on Fri Dec 25, 2015 6:39 am; edited 3 times in total

Guest
Guest


Back to top Go down

Re: MOHAMMED MASOOD NOTTINGHAM

Post by Guest on Thu Dec 24, 2015 5:38 am

وہ شخص انا پرست تھا۔۔۔۔۔۔۔
محمد مسعود نونٹگھم یو کے






وہ شخص انا پرست تھا اس کی باتوں میں اقرار بھی تھا
اِس کے چبھتے ہوئے لہجے میں چُھپا ہوا پیار بھی تھا






وہ مجھے لکھتا تھا ہر وقت کہ میرا انتظار نہ کیا کرو
لیکن اِس کی تحریر میں صدیوں کا انتظار بھی تھا






وہ کہتا تھا کہ نہ روٹھو مجھ سے مُجھے منانا نہیں آتا
میری ناراضگی پر لیکن وہ بے قرار بھی تھا






میں شاہد پھر نہ لکھتا اِسے اپنی خیر خبر کبھی بھی
محبت کا بھرم رکھنا تھا کچھ دل بے اختیار بھی تھا






شاہد اِس کا یہی انداز ہو محبت کرنے کا مسعود
وہ میرا ہمدرد بھی تھا اور ستم گزار بھی تھا

Guest
Guest


Back to top Go down

Re: MOHAMMED MASOOD NOTTINGHAM

Post by Guest on Thu Dec 24, 2015 5:46 am

وہ خواب بھکر گئے جو پلکوں پہ سجائے ہم نے
محمد مسعود نونٹگھم یو کے






وہ خواب بھکر گئے جو پلکوں پہ سجائے ہم نے
بُجھ گئے وہ چراغ جو محبت کے جلائے ہم نے






ہمارے دل میں لگی آگ پھر نہ بُجھ سکی
بجھانے کے لیے کتنے اشک بہائے ہم نے






جی بھر کے ہم تنہائی میں بہاتے ہیں آنسو
محفل میں چھلک پڑے لاکھ چھپائے ہم نے






وہی پُھول آج ہم کو کانٹے بن کر چھبے
جو پلکوں پہ اپنی تھے سجائے ہم نے






ذرا ٹھہر ذرا رُکیے ذرا سُنیے مسعود
ابھی کہاں اپنے دل کے زخم دکھائے ہم نے

Guest
Guest


Back to top Go down

Re: MOHAMMED MASOOD NOTTINGHAM

Post by Guest on Fri Dec 25, 2015 6:48 am

[size=24][center]دہکتے دن میں عجب لطف اُٹھایا کرتا تھا
محمد مسعود نونٹگھم یو کے



دہکتے دن میں عجب لطف اُٹھایا کرتا تھا
میں اپنے ہاتھ کا تتلی پہ سایہ کرتا تھا



اگر میں پوچھتا بادل کدھر کو جاتے ہیں
جواب میں کوئی آنسو بہایا کرتا تھا



یہ چاند ضعف ہے جس کی زباں نہیں کھلتی
کبھی یہ چاند کہانی سنایا کرتا تھا



میں اپنی ٹوٹتی آواز گانٹھنے کے لئے
کہیں سے لفظ کا پیوند لایا کرتا تھا



عجیب حسرتِ پرواز مجھ میں ہوتی تھی
میں کاپیوں میں پرندے بنایا کرتا تھا



تلاشِ رزق میں بھٹکے ہوئے پرندوں کو
میں جیب خرچ سے دانہ کھلایا کرتا تھا



ہمارے گھر کے قریب ایک جھیل ہوتی تھی
اور اس میں شام کو سورج نہایا کرتا تھا



یہ زندگی تو مجھے تیرے پاس لے آئی
یہ راستہ تو کہیں اور جایا کرتا تھا[/center][/size]

Guest
Guest


Back to top Go down

Re: MOHAMMED MASOOD NOTTINGHAM

Post by Sponsored content


Sponsored content


Back to top Go down

Page 10 of 10 Previous  1, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 10

View previous topic View next topic Back to top

- Similar topics

 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum